جمعرات کو ایران ایرانی مذاکرات کاروں اور چھ ممالک ... چین، روس، فرانس، برطانیه، امریکه ـ جرمنی ... کے نمائندوں کے درمیان اہم بات چیت ہوئی۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا کی ترجمان کرسٹینا گلاچ نے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی کی قیادت میں وفد اور چھ بڑی طاقتوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جنیوا کے نواح میں جھیل کنارے واقع گاٶں جینتھاڈ میں ایک ولا میں ہورہے ہیں.اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران طویل عرصہ سے جاری اپنے جوہری تنازعے کے حل کے لئے ان کے ساتھ تعمیری بات چیت کرے گا.ان مذاکرات سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری سعید جلیلی نےجنیوا روانہ ہونے سے قبل امام خمینی انٹرنیشنل ہوائی اڈے پرصحافیوں کوبتایا کہ ایران ان مذاکرات کو اسٹرٹیجک نگاہ سے دیکھتاہے اور سمجھتاہے کہ ان کے طویل المیعاد مقاصد ہیں اور یہ باہمی تعاون کا باعث بنیں گے.سعیدجلیلی نے کہا جیسا کہ دنیا جانتی ہے ایران اپنے عوام کی مکمل پشت پناہی اور اپنے حقوق پرزوردیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کرنے کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ نظریہ ہے یہ مذاکرات پانچ جمع ایک گروپ کے لئےایک موقع اور امتحان ہے.سعید جلیلی نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی کا انحصار پانچ جمع ایک گروپ کے تعاون پرہے اور ہمیں امید ہے کہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیاجائے گا۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی سیکورٹی کونسل کے سربراہ سعید جلیلی نے اجلاس کے بعد امریکی نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز کے ساتھ مختصر ملاقات کی ہے. انہوں نے البتہ اس ملاقات میں زیر بحث آنے والے موضوعات کی تفصیل نہیں بتائی.البتہ ایران کے سرکاری ذرائع سے اس ملاقات کی تصدیق نہیں ہوسکی.ادھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ مذاکرات مثبت اور مفید رہے اور انہیں محسوس اقدامات کی توقع ہے۔
وزیرخارجہ منوچہر متکی نے اس اجلاس کے شروع ہونے سے قبل اس موقع پرکہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا خیال ہے کہ متوازن تعلقات اور قانون و معاہدوں کے مطابق منطقی گفتگو کے اچھے نتائج سامنے آسکتے ہيں ۔منوچہر متکی نے بدھ کے روزامریکی ریڈیو این پی آر کو انٹرویودیتے ہوئے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فریق مخالف بھی مذاکرات کو اسی نگاہ سے دیکھے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے کے منشور کے مطابق کسی کو یہ حق حاصل نہيں کہ دوسروں کو اس کے مسلمہ حقوق سے محروم کرے اور ایران کسی بھی صورت میں اپنے مسلمہ حقوق سے دست بردار نہيں ہوگا؛ ایران نے پیکج پیش کرکے تعمیری مذاکرات کیلئے اپنی نیک نیتی کاثبوت دیدیا ہے اور اس کے عوض تھران کو توقع ہے کہ وہ دوسرے فریق کے اندر بھی مسائل کے حل کیلئے حقیقی عزم کا مشاہدہ کرے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تعاون دوطرفہ ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کئے جانے والے پیکج میں سیاسی، عالمی اور اقتصادی موضوعات ہیں اور بین الاقوامی مسائل میں ایٹمی موضوع بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ آئی اے ای اے کے سربراہ نے بارہا اس کا اعتراف بھی کیا ہے اور ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ ایران نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے رکن کی حیثیت سے معاہدے سے بھی زیادہ عمل کیا ہے۔
ایران نے اس سے پہلے بھی رضاکارانہ طور پر کسی قانونی پابندی کے بغیر دوبرسوں تک یورینیم کی افزودگی معطل رکھی جب کہ اس کے مقابلے میں بش انتظامیہ نے صرف سیاست بازی اور ایران کےخلاف ماحول سازی سے کام لیا ۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ ایران نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سےاپنے فرائض پر عمل کیا ہے۔ چنانچہ ایسی توقع رکھنا جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہو، ناقابل قبول ہے۔